About this episode
جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد اور انسانی معاہدات کی اساسی اہمیت، قرآنِ حکیم کے تصورِ تقویٰ کے تناظر میںخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 06؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28؍ نومبر 2025ءبمقام: جامعہ عثمانیہ مکی مسجد، حسین کالونی، چشتیاں خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:يٰـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا (33– الأحزاب: 70,71)ترجمہ: ’’اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور کہو بات سیدھی، کہ سنوار دے تمہارے واسطے تمہارے کام اور بخش دے تم کو تمہارے گناہ اور جو کوئی کہنے پر چلا اللہ کے اور اس کے رسول کے اس نے پائی بڑی مراد‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:35 جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد6:05 جمعہ کی اجتماعیت کا قائم کرنا اور خطبہ دینا ریاست کے سربراہ کی ذمہ داری7:21 جمعة المبارک کا بنیادی ہدف؛ اجتماعی قوت کا اظہار9:50 جمعہ کے دن دو خطبوں کی مشروعیت کا راز11:49 جمعہ کے دن اردو خطبہ سے مقصود‘ دین کے احکامات کی تعلیم و تفہیم 12:56 جمعہ کی اجتماعیت اور معاہدات کی پاسداری15:11 جمعہ کے اجتماع سے دینی اجتماعیت اور مادی اجتماعیت کا بنیادی فرق سمجھنا ضروری21:46 مسلمانوں کی بے روح اجتماعیتیں اور جمعہ کا شعوری پیغام25:47 انسانی سماج کی پہلی اکائی؛ معاہدۂ نکاح کے بنیادی اساسی امور29:14 خطبۂ نکاح کی پہلی آیت کا مقصد؛ تقویٰ کی اساس پر فریقین کی مساوی حیثیت کا تعین42:30 دوسری آیت کا ہدف؛ قولِ سدید کا عہد و قرار اور خاندان کا ادب و احترام 46:29 ان امور کا لازمی نتیجہ اعمال و افعال کی درستگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے49:07 تیسری آیت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایمان و سلامتی اور ایفائے عہد کی پاسداری کا بیان51:20 ان اساسی امور کی شعبۂ زندگی کے ہر معاہدے اور اجتماعیت میں پاسداری ضروری58:53 قولِ سدید کی تشریح اور دینی اجتماعیت پر مبنی آزادی و امن اور عدل کے نظام کا قیام1:09:37 تین سو سال سے مادی مفادات کی اساس پر ظالمانہ نظام کا تسلط1:18:17 اجتماعیت کا قیام اور تبدیلی نظام کا شعوری پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا