About this episode
ربوبیّتِ اقوام کے اُصول سے انحراف، نوآبادیاتی جبر اورآلۂ کار طبقے کے سماجی بگاڑ کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہبتاریخ: ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۴۷ھ / 23؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ۔فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ۔لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا، إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ۔ (الانبیاء:11-13)ترجمہ: اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں۔ پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے۔ مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ اجتماع انسانی میں باہمی تعاون کا اصول ✔ ربوبیت اقوام کی اساس پر بننے والے سماجی نظام ✔ تاریخ کا اصول اورظالم قوموں کا انجام ✔ نوآبادیاتی ذہنیت کے سماج پر تباہ کن اثرات ✔ نوآبادیاتی ارتقاء اور جبر و استحصال کا قومی دور ✔ پاکستان کی سیاسی و معاشی حقیقت اوراصل نظام کو چھوڑ کر نتائج پر بحث کارویہ ✔ قانون شکن اشرافیہ اوراستحصال زدہ اکثریت ✔ برصغیر کی تابناک تاریخ اورآزاد مملکت کی حقیقی پہچان ✔ سوسائٹی کے اصل مرض کی شناخت ، جماعتوں کے بے معنی ٰ منشور اور ہماری ذمہ داری