امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات  کا جائزہ | 06-02-2026
Homeخطبات › Episode

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات کا جائزہ | 06-02-2026

1:32:41 Feb 10, 2026
About this episode
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات  کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 17؍ شعبان المعظّم 1447ھ / 6؍ فروری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی:1۔ الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔ [22 - الحج: 41] ترجمہ: ”وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے“۔2۔ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا۔ [17 - الإسراء: 64]ترجمہ: ”ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اور ان کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں“۔ احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 59)ترجمہ: ”جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر“۔2۔ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 420)ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کی جنھیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا، مقامِ حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد "ثنیۃ الوداع" تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ "ثنیۃ الوداع" سے "مسجد بنی زریق" تک کرائی۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز خطاب✔️ انسانیت اللہ کو بہت محبوب اور الہی محبت کا تقاضا✔️ انسانیت کی کامیابی؛ علمی ترقی اور عملی مہارت کا نظام✔️ حضورﷺ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ‘ صحیح علم اور درست عمل کا حسین امتزاج✔️ اس حوالے سے خلفائے راشدینؓ کی امتیازی حیثیت نیز جماعتِ صحابہؓ‘ عروة الوثقیٰ (مضبوط کڑا)✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا مصداق‘ اصحابِ محمدﷺ، خلفائے راشدین کے ’’تمکین فی الارض‘‘ کے لیے چار اہم کام✔️ (1) تمکین فی الارض کا پہلا تقاضا؛ انسانیت کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کے لیے نماز کا قیام✔️ (2) حالتِ الٰہیہ کے تقاضے سے اللہ کے کنبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرنا✔️ نماز اور زکوة کا چولی دامن کا تعلق✔️ (3) انسانی بھلائی کے معروفات (متفقہ امور) کا حکم اور (4) منکرات (انسانیت کے وجود کے لیے اجنبی کاموں) سے روکنا✔️ مُنکر کی مزید تشریح؛ قومیت کے غلط بیانیے اور فرسودہ تصورات کا شعوری جائزہ✔️ نبی اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں امر بالمعروف کی عملی شکلیں ✔️ ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ محض کھیل کود کے دن تھے✔️ نبی اکرمؐ نے انسانیت کی بھلائی اور یادِ الہی کے لیے دو دن مقرر فرمائے✔️ انسانی سوسائٹی کے مفید کھیل کود اور سرگرمیاں✔️ پہلا وا
Select an episode
0:00 0:00