About this episode
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 76:فصل ہفتم: خلافتِ راشدہ کی حقانیت کے عقلی دلائلنکتۂ چہارم؛ برکات و فیوضاتِ نبوت کی ظاہری شکل (شریعت، طریقت اور سیاست) کی تکمیل کی تفصیلات‘ خلافتِ خاصہ کے تناظر میںخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22؍ رمضان المبارک 1446ھ / 23؍ مارچ 2025ءبوقت: ڈھائی بجے دوپہر بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ سابقہ درس میں بیان کردہ نکات کا خلاصہ ✔️ آپؐ کی شریعت، طریقت اور سیاست کی تفصیلات✔️ حضرت محمد ﷺ افضل الشرائع، افضل الانبیاء اور افضل الکتب کی خصوصیات سے متصف ہیں✔️ پیغمبروں کی بعثت کی تین صورتیں (بادشاہی، حبریت اور زہد وتقویٰ) اور ہر صورت میں نبی کے لیے غلبہ لازمی و ضروری✔️ افضل الانبیاءؑ کی خصوصیات؛ بادشاہی، حبریت اور زہد کا جامع ہو، اسی لیے نبی ﷺ افضل الانبیاء ہیں✔️ نبوت بطور عنایتِ الٰہی جسم میں موجود نفس ناطقہ کی مانند ہے اور خلفائے راشدین کی اطاعت گزاری گویا ظاہری جسم کی مانند ہے✔️ خلافتِ باطنہ (مکی دور) و ظاہرہ (ریاستِ مدینہ) میں حضوؐر کی برکاتِ نبوت اور فیوضاتِ رسالت سے جسمِ نبوت میں اضافے کی تفصیلات✔️ آپؐ کے لیے شہنشاہیت و بین الاقوامی غلبہ (خلافتِ کبریٰ) کی متواتر بشارتیں اور یہ وعدہ خلفائے راشدینؓ (نبوت کے ظاہری بدن) سے تکمیل پذیر ہوا✔️ حضور ﷺ بطور حِبر شریعت اور اس کی تفصیلات✔️ صحابہؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ نے حضور ﷺ کے بعد علومِ شریعت کو مختلف انداز سے جاری رکھا ہے✔️ حضور ﷺ کی بعثت سے علومِ انسانیت کا ظہور اور دنیا بھر میں آج تک فیضان جاری ہے✔️ آپ ﷺ کی حبریت کے مراتب، مکی دور کے علوم؛ علم التوحید، علم المعاد اور انبیائے سابقین کے قصص✔️ مدنی دور کے علوم؛ اَحکام و حِکم (حکمت) کا نزول اور شریعت کا مکمل عملی نظام✔️ تیسرا مرتبہ حبریت؛ آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفا میں علومِ شریعت کا منتقل ہونا✔️ تیسرے مرتبے کی پہلی قسم؛ علوم کے مرکز و منبع (قرآنِ حکیم) کی جمع وتدوین✔️ دوسری قسم؛ حضور ﷺ کے بعد پیش آمدہ مسائل کی تفتیش اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اخذ و استنباط✔️ فقہ اسلامی کے تین بڑے ماخذ؛ کتاب اللہ، سنتِ رسول ﷺ اور خلفاء و صحابہ ؓ کے مجمع علیہ اقوالبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا