About this episode
خُطباتِ خلافت بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 111:فصل ہشتم کا تتمہ؛افضلیتِ شیخینؓ کے عقلی مقدمات (4) حضرات شیخینؓ کے فضلِ کلی کا نظریہ؛ سات نکاتی معیارات کی روشنی میں جامع جائزہ خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : ۲۴؍ رمضان المبارک 1447ھ / 14؍ مارچ 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ سابقہ درس کا خلاصہ✔️ ساتواں مقدمہ: حضرات شیخینؓ میں فضلِ کلی کے تمام معیارات کا ثبوت؛ چند نکات کی روشنی میں جائزہ✔️ پہلا نکتہ: افراد انسانی میں کمالات کا تفاوت فطری امر ہے✔️ شدتِ عمرؓ اور رحم ابوبکرؓ کی ضرورت کی مثال سے وضاحت✔️ حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ میں جہاں بانی کا اعلی درجے کا کمال جبکہ حضرت عیسیٰؑ و یونسؑ زہد و ورع کے اعلیٰ مقام پر فائز✔️رسول اللہؐ کی نبوتِ کبریٰ میں خلافت و رسالت کا عمدہ امتزاج✔️ خلفائے راشدینؓ کے امتیازی اوصاف اور متعلقہ روایات کی طرف اشارہ✔️ پہلے نکتے کا خلاصہ؛ اصحابِ رسول اللہؐ متفرق صلاحیتوں کے حامل✔️ دوسرا نکتہ: ہر صحابی کو خاص فضیلتِ جزئی کی نبوی بشارت البتہ شیخینؓ کو فضیلتِ کلی حاصل✔️ حضرات صحابہ کرامؓ کی انفرادی خصوصیات و کمالات✔️ فرقہ زیدیہ کا فاسد اور غلط گمان✔️ آپؐ کا خلافتِ عظمیٰ (خلافتِ علی منہاج النبوة) کی شرائط بیان نہ کرنے کی وجہ✔️ تیسرا نکتہ: فضیلتِ کلی و جزئی میں فرق کی وضاحت✔️ صلہ رحمی کی بنیاد پر تعریفی کلمات کو خلافت و حکومت پر منطبق کرنا خلط مبحث✔️ حضرت علیؓ کے لیے ’’ھو منی و انا منہ‘‘ سے خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہوتی✔️ چوتھا نکتہ: ہر حدیث میں ایک خاص محبت کی طرف اشارہ✔️ پانچواں نکتہ: فضلیت و تفوق کی ترجیح کے دو دائرے✔️ خلافتِ کبریٰ میں بادشاہوں کی شجاعت نفع بخش✔️ صحابہ کرامؓ کے زہد کے فرق مراتب✔️ چھٹا نکتہ: شیخینؓ میں پیغمبر کے جانشین ہونے کے دونوں عقلی پہلوؤں کا تحقق✔️ ساتواں نکتہ: دنیا بھر میں دین اسلام پھیلانے کے لیے ہر صحابی کو نسبتِ علم کی فضلیت حاصل✔️ ’’أنا مدینة العلم وعلي بابها‘‘ کا تعلق فضلیتِ علم سے ہے نہ کہ خلافت کے ثبوت سے✔️ افضلیتِ شیخینؓ سے متعلق ’’قرة العینین فی تفضیل الشیخین‘‘سے وضاحت✔️ حضرات شیخینؓ کے حضرت علی المرتضیٰؓ سے افضل ہونے کے دلائلبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا